" /> Blog - Motive behind Tobacco free Pakistan ~ Zidane Hamid

تمباکو نوشی اور ماحول- Smoking on Environment

Blog
Description

Blog for Urdu Readers – Smoking on Environment –
انسان جب اس دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے تو اس کا اولین واسطہ اس کے ماحول سے پڑتا ہے۔ ماحول کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کے اردگرد پائی جانے والی ہر جاندار اور بے جان چیز مل کر ماحول بناتی ہے۔ ماحول میں ہر چیز دوسری چیز سے منسلک ہے اورہر تبدیلی کا اثر ماحول میں رہنے والی تمام چیزوں پر ہوتا ہے۔ ہم ماحول پر انحصار کرتے ہیں، اگر ہمارا ماحول صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک ہو گا تو ہماری صحت بھی اچھی ہو گی اور ماحول کا قدرتی توازن بھی برقرار ریے گا۔ انسان ماحول کی سب سے برتر مخلوق ہے جو ماحول کو سنوارنے اور بنانے کا اختیار رکھتی ہے۔ انسان کا ہر چھوٹا اور بڑا عمل ماحول
پر اثر ڈالتا ہے اور انسان کو اس کی آگاہی ضروری ہے۔
انسان اپنے بہت سارے کام نتائج کو ذہن میں لاۓ بغیر کر لیتا ہے مگر اس کے اثرات ماحول پر ایک لمبے عرصے تک رہتے ہیں۔ سگریٹ نوشی بھی ویسا ہی ایک عمل ہے جو بظاھر بے ظرر سی عادت محسوس ہوتی ہے مگر اس کی تیاری سے لیکر استعمال تک کے تمام مراحل میں ماحول کیلۓ کس قدرتباہی و نقصان شامل ہے یہ جان کر ہر انسانیت کا درد محسوس کرنے والے دل میں تشوش کی لہر ضرور جاگے گی۔
کیا ہم میں سے کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ بظاہر ایک چھوٹی سی سگریٹ کی ڈبیا کس قدر تباہی پھیلانے کرنے کے بعد ہم تک پہنچتی ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف سگریٹ کا استعمال ہی مضر ہے مگر شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ اس کی تیاری کے مراحل بھی ماحول کیلۓ زھرقاتل کی مانند ہیں۔ سگریٹ کو تمباکو سے تیار کیا جاتا ہے اوراس کی کاشت ماحول کیلۓ صرف نقصان کی خبرلاتی ہے۔ تمباکو اپنی کاشت سے پہلے ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ سب سے پہلے اس جگہ کو بالکل صاف کر دیا جاتا ہے۔ زمین کی صفائی کا مطلب ہے کہ وہاں سے درختوں کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔ درخت ہماری زمین کیلۓ پھیپھڑوں کی سی اہمیت رکھتے ہیں جن کی حفاظت ماحول کو تروتازہ رکھنے کیلۓ انتہائی ضروری ہے۔ جب کسی جگہ سے درخت کاٹے جاتے ہیں تو وہاں رہنے والے جانور اور پرندے برے طرح متاثر ہوتے ہیں۔ تقریباً 99 فیصد جانوروں کی زندگیوں کوخطرہ ہے کیونکہ ان کے رہنے کی جگہیں ختم ہو رہی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ جنگلات کا کاٹا جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافہ، زمین کا کٹاؤ اورکاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ بھی اس کے نتیجے میں زمین کے حصے میں آتے ہیں۔
دنیا میں 2 سے 4 فیصد درختوں کا کٹاؤ تمباکو کی کاشت کیلۓ کیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطانق 2 لاکھ ایکڑ زمین کو ہر سال تمباکو کی کاشت کیلۓ درختوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ صرف جنوبی افریقہ میں ہی ہر سال 1 لاکھ 40 ہزار رقبہ تمباکو کی تیاری کے دوران جلا دیا جاتا ہے جو سالانہ ہونے والی درختوں کی کٹائی کا 12 فیصد ہے۔ چونکہ تمباکو کی فصل عام طور پر باقی فصل سے الگ اگائی جاتی ہے اوراس کی کاشت کو بہتر بنانے کیلۓ کیڑے مار کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکلز کسی بھی طرح زمین کیلۓ فائدہ مند نہیں ہوتے ہیں۔ عموماً ان کیمیکلز کا استعال کرنے والے کسان اس کے درست استعمال سے بےخبر ہوتے ہیں اور صحیح استعال نہ کر سکنےکی وجہ سے صحت کے مسائل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بہت سارے ممالک میں کسان ایسے کیمیکلز استعمال کرتے ہیں جن پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد ہے جیسے یورپی یونین کی طرف سے ڈی-ڈی-ٹی پر پابندی عائد ہے لیکن پھربھی یہ تمباکو کی کاشت میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی علاوہ یہ کیمیکلز زیر زمین پانی کے ذخائر کو بھی آلودہ کرتے ہیں اور ایک لمبے عرصے کیلۓ زمین کی زرخیزی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق تمباکو کا پودا باقی فصلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جذب کرتا ہے اوراس کی کاشت زمین کی زرخیزی کو تیزی سے کم کرتی ہے۔
ٹوبے-کو فری پاکستان کمپین کے دوران اس مقام پر میں نے بہت تکلیف محسوس کی کیونکہ میرے علم میں یہ بات تھی کہ دنیا میں سات سو پچانوے ملین افراد یعنی ہر دس میں سے نو افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر تمباکو کی کاشت کے بجاۓ یہی زمیں ان مفلوک الحال لوگوں کیلے خوراک اگانے میں استعمال کی جاۓ تو یہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جاۓ۔ میں نے اپنے ذہن میں اپنی کمپین کا مقصد ازسرنو تازہ کیا کہ میں نے زیادہ سے زیادہ افراد کو اس مقصان سے آگاہ کرنا ہے اور انسانیت کو بچانا ہے۔
ہمارے ملک میں 6 ملین ایکڑ زمین تمباکو کی کاشت کیلۓ اوراستعمال ہوتی ہے اور یہ ہمارے ملک کی وہ واحد فصل ہے جس کی کاشت کا تناسب ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہے۔ فصل تیار ہونے بعد تمباکو کی تیاری کے دوران تقریباً ڈھائی ملین ٹن لکڑی کو جلایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
جب میں اپنی تحقیق میں یہاں تک پہنچا تو میرے ذہن میں ایک اور تشویش ناک بات آئی کہ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی تحقیق کے مطا بق پاکستان میں زیرزمیں پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور 2025 میں ملک کو ایک قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں نے اپنے اندر ایک بے چینی محسوس کی کہ تمباکو کی کاشت کے دوران استعمال ہونے والے کیمیکلز ہمارے پہلے سے کم ہوتے پانی کی سطح کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔
کہانی صرف یہیں نہیں مکمل ہوتی۔ تمباکو کی تیاری کے مراحل دوران کثیر مقدار میں فاضل مواد بھی پیدا ہوتا ہے جو بذات خود ایک تباہی کی داستان ہے۔ اس فاضل مواد میں نکوٹین اور خطرناک قسم کے کیمیکلزشامل ہیں۔ ڈبلیو-ایچ-او کے مطابق ہر سال 340 سے 680 ملین کلو گرام تمباکو کا فاضل مواد ماحول کا حصہ بنتا ہے جس میں زیادہ تر کیمیکلز ہوتے ہیں جو پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔
یہاں تک تو کہانی تمباکو کی کاشت کی ہے مگر ایک دکھ کی کہانی اس سے آگے بھی ہے۔ سگریٹ کی تیاری کے مراحل بھی سراسر تباہی کا مضمر ہیں۔ سگریٹ تیار کرنے والی مشین میں ایک گھنٹے میں کی جانے والی پیکنگ کیلۓ 4 میل کاغذ درکار ہوتا ہے جو کہ خود درختوں کے کٹاؤ کا سبب ہے۔ استعمال سے قبل ہی اتنی تباہی پھیلانے والا یہ زھر قاتل جب کوئی استعمال کرتا ہے تو وہ گویا خود ہی اپنے آپکو ہلاکت کے حوالے کر دیتا یے۔ سگریٹ کے اندر 4 ہزار سے زائد کیمیکلز پاۓ جاتے ہیں جو انسانی جسم کیلۓ بہت نقصان دہ ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف خود کو نقصان میں ڈالتا ہے بلکہ سگریٹ کے دھویں سے دوسرے لوگ بھی نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ موذی چیز اپنے استعمال کے بعد بھی ایک لمبے عرصے تک نقصان کا باعث بنتی ہے۔ استعمال شدہ سگریٹ کے ٹکڑوں سے خارج ہونے والے کیمیکلز زمین کیلۓ بہت نقصان دہ ہیں۔ یہ فاضل مواد دریاؤں اور سمندروں تک جا پہنچتا ہے اور آبی مخلوق کیلۓ موت کا باعث بنتا ہے۔
سگریٹ بنانے میں جو روئی استعمال ہوتی ہے وہ بھی ماحول کیلۓ ایک انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ عام طور پر سگریٹ کو استعمال کے بعد یونہی پھینک دیا جاتا ہے اور یہ روئی قدرتی طور پر تلف ہونے میں18ماہ سے 10 سال لگاتی ہے۔ اس روئی میں سے زھریلے مادے خارج ہوتے ہیں جو بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر اکثر پینے کے پانی میں شامل ہو کر آلودگی کا باعچ بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک سگریٹ کا ٹکڑا دو گیلن پانی کو زھریلا کرنے کو کافی ہے۔ یہ سگریٹ کے ٹکڑے آبی زندگی کیلۓ بھے بہت خطرے کا باعث ہیں کیونکہ اکثر مچھلیاں ان کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں اور موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ماحولیاتی نقصان کی ایک اور قسم جنگلوں میں سگریٹ سے لگنے والی آگ ہے جو استعمال شدہ سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے سے وجود مین آتی ہے۔ اس آگ کے نتیجے میں قیمتی درخت اور ان میں رھنے والے جانور ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس آگ کے نتیجے میں ہر سال پوری دنیا میں تین لاکھ اموات ہوتی ہیں اور 27 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
اس بات کا ادراک مشکل ہے کہ ایسی چیزکو کیوں ایک بڑے پیمانے پر تیار اور فروخت کیا جاتا ہے جس کے استعمال کا کوئی ایک پہلو بھی انسانیت کیلۓ نفع کا باعث نہیں۔ کیا اس گھناؤنے کاروبار سے حاصل ہونے والے روپے اس قدر اہم ہیں کہ ان کے بدلے انسانیت کچھ نہیں؟ اقبالِ لاہوری کا یہ فرمان احساس جگانے کو کافی ہے:
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی !

زیدان حامد
Zidane Hamid