" /> Tobacco a deadly Killer - Blog - Little Professor Zidane Hamid

تمباکو ، ایک زہر ِ قاتل

Tobacco free pakistan
Description

Tobacco Free Pakistan – WHY http://tobaccofreepakistan.com

لوگ بڑی حیرانی سے پوچھتے ہیں کہ میں نے سات سال کی عمر میں تمباکو آگاہی مہم (Tobacco Free Pakistan) کا آغاز کیوں کیا؟ تمباکو پہ ریسرچ کرتے مجھے جس تکلیف کا احساس ہوا اگر آپ پڑھیں گے تو آپ کے دل میں بھی انسانیت کا درد جاگ اٹھے گا۔۔
یہ معاملہ اصل میں ہر ایک کہ نقطہ نظر اور حقیقت کے مابین ہے۔ اس بات کو گہرائی میں سمجھنا ضروری ہے کہ
ذھنی تناؤ سے چھٹکاراور سکون کا حصول صحت کے بدلے کسی بری عادت کی صورت میں نہیں حاصل کیا جانا چاہیئے۔ ایک دفعہ میری گفتگو ایک صاحب سے ہوئی، جن کے ہاتھ اور چہرہ سیگرٹ نوشی کے باعث زرد پڑ چکے تھے ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ان کی سگریٹ نوشی کی وجہ کیا ہے اور کیا اس کا کوئی فائدہ بھی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرے لیۓ سود مند ہے کیوںکہ سگریٹ نوشی میرے ذھنی تناؤ کو کم کرتی ہے اور میرا موڈ بہتر ہو جاتا ہے۔ لیکن جب میں نے انھیں آگاہ کیا کہ یہ آپکے جسم کیلئے نقصان دہ اور یہ نقصان آپکے منہ سے لیکر سانس کی نالیوں اور دل سے ہوتا ہوا پورے جسم تک پھیل جاتا ہے، تو وہ صاحب خفا ہو گئے اور جواب دیا کہ میں کونسا
کسی کو نقصان دے رہا ہوں میرا اپنا جسم ہے میں جو مرضی کروں میں اس کا ذمہ دار خود ہوں۔

ان کی خفگی دیکھ کر میں نے ان سے مزید عاجزی اور احترام سے عرض کی کہ جناب یہ نقصان صرف آپکی ذات تک نہیں ہے، آپکی صحت کی خرابی کا اثر آپکے خاندان پر پڑے گا اور اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ آپکی اس عادت کا اثر آس پاس کے لوگوں کی صحت پر بھی پڑے گا۔
ہر سال یوایس اے میں 38 فیصد بچے بلواسطہ تمباکو نوشی کا شکار ہوتے ہیں اور صحت کے مسائل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ہر سال 20 لاکھ بچے کان کی انفیکشن اور تقریباً 53 لاکھ سانس کے مرض (ایستھما) کا شکار ہوتے ہیں۔ 5 سال سے کم عمرکے 4 لاکھ 36 ہزار بچے برانکایئٹس اور 19 لاکھ بچے نمونیا جیسے مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مجھے ان صاحب کے الفاظ ابھی تک یاد ھیں، “تم بیوقوف ہو”۔ مجھے ایک سویڈش ماہر نفسیات اور جرائم کی تحقیق کرنے والے شخص کا بیان کردہ “سٹاک ہوم سینڈرم” کا خیال آیا ۔ یہ شخص1973 میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی میں یرغمال بنائے گئے افراد پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس نفسیاتی مرض کے شکار افراد میں اپنے اغواکار سے ہی تحفظ کی امید رکھنے کا احساس پایا جاتا تھا۔
مجھے تمباکونوشی کے عادی افراد میں بھی “سٹاک ہوم سینڈرم” کا خدشہ محسوس ہوا۔ یہی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ یہ افراد صحت کے نقصان کا ادراک نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی اس منظم اور خاموش تباہی سے باہر آنا چاہتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں جن میں سے 31 فیصد مرد اور 5 فیصد خواتین ہیں۔ ہر سال 10 ہزار آٹھ سو افراد سگریٹ کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہر سال 1200 افراد سگریٹ نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔
ان معلومات کا علم ہونا ہی میری اس کمپین کا آغاز بنا۔ میں نے یہ مقصد طے کیا کہ تمباکونوشی کے بارے میں ہر سطح پر آگاہی دی جاۓ اور لوگوں کو یہ ہمت اور حوصلہ دیا جاۓ کہ وہ یس عادت کو چھوڑ سکیں۔ میری اس کمپین کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کو تمبا کونوشی کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ہینڈ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ اور اس کے نقصانات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جاۓ۔ میری اس بارے میں کافی دفعہ لوگوں سے بات چیت بھی ہوئی۔ لوگوں کا تمباکونوشی کو صحیح ثابت کرنے کیلئے عقلی دلائل دینا میرے لیے ہمیشہ بہت حیرت کا باعث رہا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگوں کو اس نقصان دہ اور بری عادت کے بارے میں بھی علم ہونا چاہئیے اور ان تمام باتوں کا بھی علم ہونا ضروری ہے جن سے ہمیں، ہمارے معاشرے، ہمارے ملک کو اور ہماری اس خوبصورت زمین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقبالِ لاہوری فرماتے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر شخص ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

قوم کو مضبوط بنانے کیلیۓ ہر فرد کی خالص کوشش اور خود اعتمادی ضروری ہے۔ یہ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے۔ میں نے ایک سات سال کے مسلمان کی حیثیت سے یہ ذمہ داری محسوس کی اور میں معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنا چاھتا ہوں۔ میں نے اپنے حصے کا چراغ جلایا اور لوگوں میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے آگاہی پیدا کرنے کیلیۓ لیکچرز کا آغاز کیا۔
تمباکو نوشی کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ مصنوعی ذائقہ والا تمباکو اور نسوار کم نقصان دہ ہیں۔ کچھ لوگ حقہ اور الیکٹرانک سگریٹ کو کم نقصان دہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ یہ اشیاء تمباکو نوشی کے برابر اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکونوشی کسی بھی صورت میں فائدہ مند نہیں یہ ہر شکل میں نقصان دہ ہے۔ یہ ایک طرف انسانوں کی صحت کیلیۓ خطرہ ہے اور دوسری طرف درختوں کے کٹاؤ کا باعث ہے جو زمین کیلیۓ پھیپھڑوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دنیا میں 2 سے 4 فیصد درختوں کا کٹاؤ تمباکو کی کاشت کیلیۓ کیا جاتا ہے۔ تمباکو کی کاشت کیلۓ پہلے درختوں کو کاٹ کر زمین کو صاف کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ تمباکو کو خشک کرنے کیلۓ ہوا یا آگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تمباکو کی کاشت کیلیۓ 600 ملین درختوں کو کاٹا جاتا ہے اور سگریٹ بنانے والی مشین میں ایک گھنٹے میں کی جانے والی پیکنگ کیلیۓ 4 میل کاغذ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر تین سو سگریٹ بنانے کیلیۓ ایک درخت کاٹا جاتا ہے اور اور ایک ایکڑ رقبے کو جلا کر تمباکو کی کاشت کیلیے صاف کیا جاتا ہے۔ صرف پاکستان میں 1.5 ملین کیوبک میٹرلکڑی کو تمباکو کیلیۓ کاٹا جاتا ہے۔ عام طور سگریٹ کو جلانے کیلۓ ماچس یا لائٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک ماچس سے دو سگریٹ جلاۓ جائیں تو سالانہ چھ ٹریلین پیے جانے والے سگریٹ کیلیۓ تین ٹریلین ماچس کی تیلیاں چاہیۓ ہوں گی جن کو بنانے کیلۓ نو ٹریلین
درخت کاٹے جائیں گے۔قمیری اینٹی ٹوبیکو کمپین کا محرک وہ درد اور پریشانی تھی جو میں نے ایک امریکی ادارے کی تحقیق کے بعد محسوس کی۔ یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی تحقیح کے مطابق امریکہ میں ہر سال تمباکونوشی سے مرنے والوں کی تعداد الکحل، ہیروئین،خودکشی،ایڈز،حادثوں اورکوکین سے ہونے والی اموات کی کل ملا کر تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ہر سال یو ایس میں 4 لاکھ 80 ہزار افراد کی موت ہوتی ہے اور پوری دنیا میں ہر سال 6 ملین افراد تمباکونوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد بچپن میں ہی سگریٹ نوشی کا آغاز کر دیتی ہے۔ اس وجہ سے میں نے اپنا پہلا ہدف سکولز کو رکھا کیونکہ میرے ذہن میں سرجن جنرل ریگینا بنجمن کی یہ بات تھی کہ “اگر جوان لوگ 26 سال کی عمر تک سگریٹ نوشی نہ کریں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ کبھی بھی اس کا آغاز نہیں کریں گے”۔
پاکستان میں ہر روز 1200 افراد سگریٹ نوشی کا آغاز کرتے ہوۓ اپنے آپکو تباہی کی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ سب لوگ ہم سے دور نہیں ہیں ہمیں ان تک پہنچنا ہے۔ یہ افراد ہمارے درمیان ہمارے ساتھ ہیں،ہمارے گھر میں، ارد گرد، ہمارے اوس پڑوس، ہمارے خاندان، ہمارے دوستوں یا ہمارے دفتر میں سے کوئی بھی ایسا فرد ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق کالجوں میں پڑھنے والے 1 ملین طلباء اس عادت کی وجہ سے قبل از وقت موت کا شکار ہو
سکتے ہیں۔ میرا مقصد ان افراد کو بچانا ہے۔
ایک خوش آئیند تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے ہر تین افراد میں سے دو افراد اس عادت کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان افراد کو اپنے ارادے میں کامیاب ہونے کیلۓ تھوڑی سی حوصلہ افزائی اور ہمت درکار ہے۔
میری کوشش ہے کہ میں اپنے شہر کے زیادہ سے زیادہ سکولز اور یونیورسٹیز میں پہنچ سکوں اور پھر یہ دائرہ قومی سطح تک بڑھانا میرا خواب ہے۔ سگریٹ نوشی کے شکار افراد کا درد محسوس کرتے ہوۓ انھیں اس کے نقصانات کی آگاہی دینے کیلۓ میں نے ایک لیکچر سیریز کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا کیا جا سکے خاص طور پر نوجوانوں کو اس بری عادت سے محفوظ کیا جا سکے۔ میں نے تعلیم اور امن کی تحریک کا آغاز تب کیا تھا جب مین ساڑھ تین چار سال کا تھا اور لوگوں میں علم کی شمع سے محبت پیدا کرنے کے لیے وڈیوز ریکارڈ کرنا شروع کی تھیں، تمباکو آگاہی مہم کا آغاز 2017 میں کیا
اور الحمدللہ بہت ۔سارے لوگوں میں آگاہی پیدا ہوئی اور انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا وعدہ کیا اور یہ سفر جاری ہے۔ ان شاء اللہ

زیدان حامد 

Zidane Hamid

Due to Twitter API changed you must insert Twitter APP. Check Our theme Options there you have Option for Twitter API, insert the Keys One Time