" /> کہانی ایک شاہین کی - Zidane Hamid

کہانی ایک شاہین کی

zidane_hamid
Description

 کہانی ایک شاہین کی از زیدان حامد

کرنے کو بہت ساری باتیں ہیں جو بہت لمبے سفر پر لے جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ قدیم چایئنیز تہذیب جنہوں نے 1046 بی-سی-ای میں کاغذ، سلک اور گن پاؤڈر ایجاد کیا، ایزٹکس کی قدیم تہذیب اور اُن کا بہترین نکاسی کا نظام، یا پھر فرینچ ریوولوشن، دنیا کے عظیم ہیروز ہوں یا علم کا مرکز بغداد جہاں بیت الحکمہ اور کنزالحکمہ جیسے علم کے چشمے موجود تھے۔ ان میں سے ہر ایک کہانی ایک الگ ہی دنیا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ اس سب کےبرابر ایک کہانی بیان کر دوں۔

عقاب کا ایک انڈہ گر جاتا ہے مرغیوں کے ڈربے میں۔ کیسا عجیب واقعہ تھا کہ شاہین جو آسمانوں کی بلندیوں میں  پرواز کرتا ہے وہ اس ڈربے میں تھا جہاں مرغیاں زمین پر چلتی پھرتی تھیں  اور ان کی آسمان بھی ان کی زمین ہی تھی۔

اس انڈے سے نکلنے والا شاہین کیا سیکھ سکتا تھا سوائے زمین پر چلنے کے سو اس نے وہی سیکھا۔ اور ایک ہی سال میں وہ مرغیوں کی طرح دانا کھانے لگا اور انھی کی طرح چلنے لگا جو کہ کسی بھی طرح سے ایک شاہین کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا جس کے بعد اس کی زندگی اُلٹ گئی۔ ایک اصلی شاہین جو کہ شاہینوں کی سی تربیت میں پلا بڑھا تھا اس نے دیکھا کہ ایک اسی جیسا شاہین ہے جو مرغیوں کے ڈربے میں رہتا ہے اور خود کو مرغی سمجھتا ہے۔ وہ شاہین اس کے پاس آیا اور حیرت سے کہا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو شاہیں تو آسمانوں کی بلندیوں میں اڑتے ہیں بادلوں کا سینہ چیر دیتے ہیں۔ مگر وہ شاہین جو پلا ہی مرغیوں میں تھا اس نے انکار کیا کہ نہیں میں شاہین نہیں میں مرغا ہوں۔ یہ سن کر اصل شاہین نےایک ٹھنڈی آہ بھر کہ کہا

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

مگر پھر بھی وہ شاہیں بضد رہا کہ نہیں میں مرغا ہوں۔ یہ سن کر اصل شاہیں نے ایک بات سوچی اور اس فریب خوردہ شاہین کو ایک پہاڑ پر لے آیا اور کہا کہ اب تمہارا امتحان ہے اگر تم واقعی میں شاہین ہو تو یہ امتحان کامیابی سے پاس کر لو گے۔ لیکن اگر تم مرغے ہو تو اس امتحان میں کبھی کامیاب نہیں ہو گے۔

یہ کہتے ہی اس نے خود کو مرغا سمجھنے والے شاہیں کو پہاڑ سے دھکا دے دیا۔ پہاڑ سے گرتے ہی اس کے دماغ میں اصلی شاہین کے الفاظ گونجنے لگے کہ یہ آپکی مرضی اور چوائس ہے کہ آپ بلندی پر پرواز کرتے ہو یا نہیں، ہوا کہ تھپیڑے کھاتے اس کو اپنا مرغیوں میں گزارا ماضی بھی یاد آنے لگا، مگر جب موت نزدیک دکھائی دینے لگی تو اس شاہین کے الفاظ نے اس کے ماضی کو فتح کر لیا اور وہ شاہین کی پرواز اڑنے لگا۔

یہ ہے ایک شاہیں کا اصلی مقام کہ وہ پہاڑوں کی بلندی کو چھو لے، بادلوں کو چیر کر آسمان کا ہم سفر بن جائے۔

مجھے یقین ہے کہ میرے یہ الفاظ پڑھنے والا ہر فرد ایک شاہیں ہے۔شاہیں ایک نایاب خصوصیات والا خاص پرندہ ہےجس کو آپ پرندوں کا بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔ طوفان کی آمد پر شاہیں کبھی نہیں گھبراتا بلکہ اس کا ایک ایک انداز طوفان کو خوش آمدید  کہتا ہے۔ یہ طوفان کا سینہ چیرتے ہوئےبادلوں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کا حوصلہ ایسا مضبوط کہ کبھی پرواز اور ناکامی سے نہیں گھبراتا۔

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پُر دم ہے اگر تُو، تو نہیں خطرہِ اُفتاد

اس کے خوں کی گرمی اس کو ہمیشہ تازہ دم رکھتی ہے یہ کبھی مردہ دلی کا شکار نہیں ہوتا۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پرندہ کبھی بھی آشیانہ بنانے میں وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ اس وقت میں وہ اپنے لئے بلند مقاصد ترتیب دیتا ہے۔

پرندوں  کی دنیا کا درویش ہوں میں

کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

گزر اوقات کر لیتا ہے کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں  کیلئے ذلّت ہے کارِ آشیاں بندی

شاہیں کی ایک سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی درباری نہیں بنتا، حواری نہیں بنتا بادشاہ کی دربار میں نہیں جھکتا بلکہ اس کی اپنی اک دنیا ہے جو خودی سے لبریز ہے۔ جو بھی شخص خود کو شاہیں کہے اور ساتھ میں وہ درباری بھی ہو اس سے بڑا دھوکے باز نہیں کوئی۔ شاہیں کبھی بھی دولت  و مرتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تُو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

 یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے شاہیں ایک خاص پرندہ ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شاہیں ہے اگر وہ اپنےاندر ان صفات کو پیدا کرے۔ اگر اپنے اندر کے شاہیں کی تصدیق چاہتے ہیں تو اپنا امتحان لیں، کیا آپ دولت و مرتبے سے متاثر ہوتے ہیں؟ کیا آپ اپنا فائدہ حاصل کرنے اور اپنا کام کرنے کیلئے کسی بھی حد تک کوئی بھی راستہ گوارا کر لیتے ہیں؟ کیا آپ اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں؟ کیا آپ سر جھکا لیتے ہیں کسے بڑے عہدے کے سامنے؟ کیا آپ مرعوب ہو جاتے ہیں دولت و  شہرت سے؟ کیا آپ ظاہری واہ واہ پر خوش ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ تساہل پسندی کا شکار ہیں؟ کیا آپ کی زندگی کا مقصد محدود سا ہے؟

اگر اس سب کا جواب نہیں ہے تو مبارک ہو آپ درست سمت میں جا رہے ہیں۔ اور اگر نہیں تو معذرت کے ساتھ آپ کو اپنے آپ کی از سرِ نو تعمیر کرنی ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا۔