" /> کام ایک - فائدے دس | لٹل پروفیسر زیدان حامد - Zidane Hamid

کام ایک – فائدے دس | لٹل پروفیسر زیدان حامد

Zidane Hamid The Little Professor
Description

آپ نے  “بائی ون گیٹ ون” تو سُنا ہی ہو گا لیکن آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آفر تو کچھ بھی نہیں ہے “بائی ون گیٹ ٹین” کے سامنے، یعنی کہ آپ نے کیا ایک ہی کام لیکن آپ کو دس فوائد ملے اور ایسے فوائد جن کو حاصل کرنے کیلئے لوگ دنیا میں کیا کچھ نہیں کرتے۔ یہ کوئی شارٹ کٹ تو نہیں ہے لیکن ایک ایسا کام ہے جس کیلئے آپ دن میں ہر روز اگر آدھا گھنٹا بھی نکال لیں تو وہ ضائع نہیں جائے گا ان شاء اللہ !!

ایک نئی دنیا آپ کی منتظر ہے، وہ آپ کے آس پاس ہے اور شاید ہی کوئی ہوگا جس کے آس پاس یہ دنیا نہیں ہو گی۔ یہی وہ دنیا ہے جس میں ایک کام کے آپ کو دس فائدے ملیں گے ان شاءاللہ اور یہ دنیا کے میری پسندیدہ دنیا یعنی کہ کتابوں کی دنیا۔ ہو سکتا ہے آپ کسی موٹیوشنل قسم کے خطاب کی امید کر رہے ہوں گے اور کتابوں کی بات سن کر آپ آرٹیکل کو یہیں پر چھوڑ دیں مگر یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسے زبان زدِ عام  خطاب آپ کو کچھ گھنٹوں تک انرجی تو دیں گے مگر پھر آپ اُسی سطح پر آ جائیں گے جہاں سے چلے تھے۔ موٹیویشن بھی ضروری ہے مگر اصل موٹیویشن تو آپ کا کام ہے آپ کا نام نہیں۔

خیر یہ باتیں ہوتی رہیں گی مگر کتابوں کی دنیا ہی وہ دنیا ہے جو آپ کو موٹیویٹڈ بھی رکھے گی اور آپ کی انرجی بھی گرنے نہیں دے گی کیونکہ کتاب ایک بہترین دوست ہے اور سچے دوست کبھی آپ کو گرنے نہیں دیتے۔

جیسا کہ شروع میں میں نے کہا کہ آپ کے ایک کام کے بدلے آپکو دس فائدے ملیں گے، کتاب سے دوستی ہی وہ ایک کام ہے جو آپ کو دس کیا بلکہ سینکڑوں ہزاروں فائدے دے گی۔

مگر آج ہم ان دس فوائد کے بارے میں بات کریں گے جو بہت اہم ہیں اور میرے ذاتی تجربے پر بھی مشتمل ہیں۔ کتاب سے دوستی بہت بچپن سے ہے شائد تب سے جب عمر ایک سال سے بھی کم تھی اور کتابیں آس پاس ہی رہتی تھیں اور ماما بابا بتاتے ہیں کہ میں نے کتابوں کو اپنے ساتھ سُلاتا اپنے کمبل میں۔ یہ دوستی آج تک اتنی پکی ہے کہ تقریباً ایک ہزار کتابیں پڑھنے کی اللہ نے توفیق دی ہے الحمدللہ اور اللہ کرے یہ سلسلہ جاری رہے۔ کتاب بینی کے یہ فوائد میں نے خود محسوس کیے ہیں اس لیے میں اپنے ذاتی مشاہدات کی بناء پر آپ کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ کتابوں سے دوستی کریں یہ آپ کی سوچ میں شخصیت میں وہ گہرائی لائیں گی کہ آپ کو محسوس ہو گا آپ کا ذہن کس قدر وسیع ہو رہا ہے۔

کتاب کو صرف دیکھ کر پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ کتاب بینی بھی ایک آرٹ ہے جس سے واقف ہونا بہت ضروری ہے ورنہ آپ ایک ہزار صفحات بھی پڑھ لیں گے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس بارے میں ہم آخر میں بات کریں گے ان شاءاللہ۔۔ پہلے ہم ان دس فوائد کا ذکر کرتے ہیں جن کا میں نے آغاز میں اشارہ کیا تھا۔

نمبر ایک۔ پہلا اور بڑا فائدہ جو آپ کو کتاب پڑھنے سے حاصل ہو گا وہ یہ ہے کہ آپ کا زندگی کے بارے میں نقطہۤ نظر وسیع ہو جائے گا۔ جب تک آپ کوئی کتاب نہیں پڑھتے تب تک آپ اپنی ہی سوچ کے قیدی ہوتے ہیں لیکن کتاب کھولتے ہی آپ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں اور اس دنیا میں آپ رائٹر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں۔ تب آپ کو ادراک ہوتا ہے کہ ہاں سوش کا ایک یہ پہلو بھی ہے۔ انگریزی کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ ایک ریڈر یعنی کتاب بین مرنے سے پہلے ہزار زندگیاں جی لیتا ہے جبکہ نان ریڈر ایک ہی زندگی جیتا ہے کیونکہ وہ اپنی ہی سوچ کا اسیر رہتا ہے اس کو یہ علم نہیں ہوتا کہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں دوسروں کی کیا رائے ہے کیا سوچنے کا انداز ہے کیا نیا پہلو ہے۔

کتاب بینی سے آپ مختلف ادوار میں رہنے والوں کی سوچ سے واقف ہوتے ہیں کہ قدیم انسان کی سوچ کیا تھی اور جدید انسان زندگی کو کیسے دیکھتا ہے۔ سوچ کا یہ پہلو آپکو کھوج تک لے جاتا ہے اور انسان کتاب پڑھتے پتہ نہیں کتنے ادوار جی لیتا ہے تخیل کا سفر ایسے ایسے حالات سے انسان کو گزارتا ہے جب اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا مگر کتابوں کی دنیا کی بدولت انسان وہ وقت بھی جی لیتا ہے۔ یعنی کہ ایک زندگی میں ہزاروں زندگیاں جینے کی بات سچ ہوئی۔ یہ انتہائی دلچسپ عمل ہے اور اس بدولت تاریخ اور جغرافیہ بچپن سے ہی میرے پسندیدہ رہے ہیں۔

نمبر دو۔ کتاب آپ کے اندر سے آپ کی بہترین سوچ سامنے لاتی ہے۔ جب آپ کوئی بھی لائن پڑھتے ہیں تو اس بارے میں لاشعوری طور پر ذہن میں سوچ ضرور آتی ہے اور انسان اس بات کو پرکھتا ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کے اندر سوچنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے اور آپ کی اپنی ایک سوچ اور فکر کی بنیاد پڑتی ہے۔

 نمبر تین۔ انسان کا تخیل اس کی سب سے بڑئ طاقت ہے اور اس تخیل کی بیداری اور مضبوطی میں کتاب اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کتابوں میں لکھی باتوں کو سوچنا سمجھنا اور اسی راہ پر مزید آگے سوچنا انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے اور تخیل کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نمبر چار۔ کتاب فارغ وقت کا بہترین مشغلہ ہے جو آپ کو سکون کو ساتھ ساتھ کئی اور فائدے دے جاتا ہے۔ آپ کہیں پر بھی ہوں کسے بھی کام سے ذرا سی بھی فرصت پائیں، پڑھنے کی عادت ڈالیں آپ کبھی ذہینی کوفت کا شکار نہیں ہوں گے۔

نمبر پانچ۔ انسان کی یاداشت ایک حیرت انگیز نعمت ہے اور اس کی مضبوطی پر ہمارے سب کاموں کا انحصار ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی یاداشت کی اچھا کرتا ہے۔ کتابیں پڑھتے باتیں ذہن میں رہ جاتی ہیں اور آپ کا حافظہ اور دماغ اسی راہ پر چلنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور یاداشت اچھی رہتی ہے۔

نمبرچھ۔۔  جن لوگوں نے عملی زندگی میں عظیم کام کیے ہوں ان کی کتابیں پڑھنے سے آپ کو کامیابی اور ناکامی کا اندازہ ہو گا اور آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ زندگی میں کامیابی کیلئے کیا ضروری کام ہیں۔ بائیوفرافی پڑھنا بہت دلچسپ کام ہے اس سے آپ کو کسی پڑے نام کے پیچھے چھپی محنت اور کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔

نمبر سات۔ اگر کبھی آپ ٹینشن میں ہیں تو کتاب کا مطالعہ کریں آپ کا دماغ بے کار پریشان ہونے کی مشقت سے نکل کر مثبت انداز میں سوچنے کے قابل ہوگا کیونکہ ٹینشن کا حل نکالنا ضروری ہوتا ہے نہ کہ پریشان بیٹھے رہنا۔

نمبر آٹھ ۔ ریسرچ کے مطابق کتابیں پڑھنے سے دماغ صحت مند رہتا ہے اور ڈیمینشیاہ اور الزائمر جیسی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

نمبر نو۔ کتاب پڑھنا ہمارے اندر دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنا پیدا کرتا ہے۔ خوشی کے بارے میں پڑھتے دل خوش ہو جاتا ہے، کوئی مشکل یا غمگین بات سے دل اداس ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے جذبات اور مشکلات محسوس کرنا ایک بہت اہم خوبی ہے جس کی آجکل بہت شکایت کی جاتی ہے کہ لوگ سخت دل ہیں دوسروں کی مشکلات محسوس نہیں کرتے۔

نمبر دس۔  آج کل کے دور میں ہر انسان کے گرد ہزاروں ایسی چیزیں ہیں جو ہماری توجہ بٹا دیتی ہیں اور ہم کسے کام پر فوکس نہیں کر پاتے۔ اگر ہم کھانا کھا رہے تو ساتھ میں آدھی توجہ ٹی وی پر ہو گی آدھی موبائل پر آدھی کھانے پر۔ اس وجہ سے جب ہم کوئی اہم کام کرتے ہیں ہمارا فوکس قائم نہیں رہتا۔ کتاب پڑھنا آپ کے فوکس کو مضبوط بناتا ہے اور آپ کے ذہنی انتشار کی جگی ٹھہراؤ آجاتا ہے۔

تو دوستو یہ تھے وہ دس فوائد جن کا آپ سع آغاز میں وعدہ کیا تھا کہ کام تو ایک ہے مگر فائدے بہت ہیں۔ جب آپ کتاب پڑھنے کی عادت بنا لیں گئ تو آپ کو اور بھی بہت فوائد ملیں گے۔

جیسا کہ اوپر میں نے کہا کتاب بینی ایک آرٹ ہے اور یہ میرا یقین ہے۔ کتابوں کو صرف دیکھ کر نہیں پڑھنا بلکہ ایک ایک بات کو محسوس کرنا ہے سوچنا ہے سجھنا ہے پرکھنا ہے کہ آپ کا ذہن اس بارے میں کیا کہتا ہے اور اس بارے میں مزید کیا کیا رائے ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کتاب میں لکھی ہر بات کو ہی مان لیا جائے مگر آپ کی اپنی سوچ کا دورازہ کھلنا زیادہ ضروری ہے۔

جب آپ کو کتاب کی عادت پڑ جائے گی پھر آپ اس بہترین مشغلے کو کبھی نہیں چھوڑیں گے ان شاء اللہ۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں ہوم ایجوکیشن کر رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں میں بھی مصروف رہتا ہوں اور اپنی مصروفیات کی بناء پر دعوت کے باوجود بہت سارے ایونٹس اور ٹی وی شو میں شرکت نہیں کر پاتا مگر جہاں بات ہو کتابوں کی، اس دعوت کو میں انکار نہیں کر پاتا جیسا کہ پی ٹی پر “دا کلاسک شو” مجھے ہمیشہ یاد رہے گا جس میں مائیکل ہارٹز کی کتاب “دی 100” کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے کیونکہ وہ کتاب میں 7 سال کی عمر میں حرف بہ حرف پڑھ چکا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کافی کتابوں پر بات ہوئی تھی۔

جس بھی ایونٹ میں دعوت ہو اور وہاں کتابیں اور کتابوں کے بارے میں باتیں ہوں وہاں شرکت کی میں پوری کوشش کرتا ہوں۔ اسی شوق کے پیشِ نظر”بکس ود زیدان” میرا ہوم سٹوڈیو میں تیار کردہ سیریز ہے جس میں کتابوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

میرا ماننا ہے اور میری دس سالہ زندگی کا تجربہ ہے کتاب سے بہترین کوئی دوست نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے کتابیں پڑھنے والے بہت تھوڑے رہ گئے ہیں مگر ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے ہمیں اس تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اور پلیز کتابیں پڑھیں ضرور مگر “ام الکتاب” یعنی قرآن  کو مت بھول جائیے گا کیونکہ اس کا سب سے پہلا حق ہے۔

 ہمیں اس کلچر کو ہر حال میں پروموٹ کرنا ہو گا کہ ہمارے بچے اور بڑے اگرفارغ وقت میں موبائل ٹی وی یا سوشل میڈیا کی طرف نہیں بلکہ کتاب کو طرف رُخ کریں اور ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے۔ تو چلئے ابھی سے اپنے گھر میں کتابوں کی دنیا کو آباد کریں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں “کام ایک – فائدے دس

Zidane Hamid The Little Professor Zidane Hamid The Little Professor Zidane Hamid The Little Professor