" /> برکت کس چیز کو کہتے ہیں ؟ - Zidane Hamid

برکت کس چیز کو کہتے ہیں ؟

image
Description
ہم اکثر یہ لفظ “برکت” پڑھتے اور بولتے ہیں مگراسے بولتے اور پڑھتے وقت اس پر یقین تقریباً نہ ہونے برابر ہوتا ہے جیسے کسی سُنی سنائی بات پر ہوتا ہے جبکہ  آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی پر پُختہ اور کامل یقین ہوتا ہے۔
لفظ “برکت” کا اصلی مطلب اور اس کا ہماری زندگیوں پر اطلاق کس طرح ہوتا ہے اس کا ہمیں علم ہی نہیں ہے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مل کر کھانے سے برکت پڑتی ہے اور کم چیز بھی پوری پڑ جاتی ہے۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آتا ہےمگر آخر اس میں کیا سچائی ہے؟ اصل میں اس بات کی سچائی دیکھی نہیں جا سکتی بلکہ محسوس کی جا سکتی ہےاور محسوس کرنے کیلئے اپنے تمام تر حواس اور جذبہِ ایمان کو برُوئے کار لانا پڑتا ہے کیونکہ اگر جذبہِ ایمان نہ ہو تو باطنی آنکھ بند رہتی ہےاور صرف ظاہری آنکھ سے نظر آنے والی حقیقت نا مکمل ہوتی ہے۔
اگر ایمان پُختہ ہو تو اس بات پر بھی یقین ہوتا ہے کہ زندگی کی تمام دوسری چیزوں کے علاوہ ہماری بُھوک پیاس پر بھی اللہ کی ذات قادرہے۔ اگر وہ چاہے اسے اطمینان بخش دے اور چاہے تو کبھی بُھوک ختم نہ ہو اور کبھی پیاس نہ بُجھے۔ یہ سب رضائے الٰہی ہے۔ انسان سے اچھی اور نیک نیت مطلوب ہے۔
جب کوئی شخص اپنی تھوڑی چیز سب کو برابر تقسیم کر کہ کھانےکا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اصل میں ایک نیک جذبہ استعمال کرتا ہے جس کہ اللہ کے ہاں بہت قدروقیمت ہے۔ اسی لئے  وہ خوش ہو کر نیک نیتی کے بدلے ثواب کے علاوہ تمام حصہ داروں کی بھوک اور پیاس کو سیراب کرتا ہےاور ایسا لگتا ہے سب نے پیٹ بھر کر کھایا ہے۔ یہی اطمینان اور تسلّی اصل میں برکت ہے جو اگر اللہ کی طرف سے نہ ہو تو انسان بہت کچھ پا کر بھی غیرمطمئن رہتا ہے۔ اس کی مثالیں ہمارے ارد گرد جا بجا موجود ہیں جس طرح بعض دولت مند افراد آپکو یہی کہتے ملیں گے کہ ان کا گزارہ نہیں ہوتا اور واقعی ان کا گزارہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کے مال میں برکت نہیں ہوتی جس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا تعلق اللہ کی ناراضگی سے ہے اور اسی وجہ سے اُنھیں سب کچھ حاصل ہونے باوجود تسلی اور اطمینان میسر نہیں آتا اور وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ کی ہوس میں رہتے ہیں۔
اگر آپکو بھی بظاہر سب حاصل ہونے باوجود مطمئن کیفیت حاصل نہیں ہوتی تواپنا جائزہ ضرور لیجئے۔ برکت نہ ہونے علاوہ بعض اوقات شکر نہ ادا کرنا بھی انسان کو بے چین رکھتا ہے۔